نئی دہلی،25دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مغربی بنگال میں رتھ یاترا کی اجازت کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی نے پیر کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرکے کلکتہ ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا ہے۔ہائی کورٹ نے رتھ یاترا کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔بی جے پی نے اس درخواست پر جلد سماعت کی درخواست کی ہے۔پارٹی نے ریاست کے تین اضلاع میں رتھ یاترا منعقد کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ بی جے پی نے ہائی کورٹ کی بینچ کے جمعہ کے حکم کو چیلنج کیا ہے جس نے رتھ یاترا کی اجازت دینے سے متعلق ایک جج کا حکم منسوخ کر دیا تھا۔بی جے پی ’جمہوریت بچاؤ‘مہم کے تحت یہ رتھ یاترا منعقد کرنا چاہتی ہے۔2019 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے قبل بی جے پی اس رتھ یاترا کے ذریعے مغربی بنگال کے 42 پارلیمانی علاقوں میں پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ عدالت کی رجسٹری کے ایک افسر نے بتایا کہ ہائی کورٹ کی بینچ کے حکم کے خلاف عدالت کو بی جے پی کی اپیل ملی ہے۔ درخواست کی ابھی تحقیقات کی جا رہی ہے۔بی جے پی کی جانب سے درخواست دائر کرنے والے وکیل مہیش اگروال نے بعد میں بتایا کہ کوشش کی جا رہے ہیں کہ اس پر ایک دو دن میں سماعت ہو جائے۔عدالت عظمی میں اس وقت ایک جنوری تک موسم سرما کی چھٹیاں ہیں۔ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیباشیش کارگپتا اور جسٹس شمپا سرکارکی بنچ نے جمعہ کو اس معاملے کو ریاست کی ایجنسیوں سے حاصل انٹیلی جنس معلومات پر غور کرنے کے لیے ایک جج کے پاس بھیج دیا تھا۔بینچ نے جسٹس تپبرت چکرورتی سنگلز جج بنچ کو اس معاملے میں انٹیلی جنس معلومات کے ساتھ نئے سرے سے غور کرنے اور جلد از جلد اس سماعت کرنے کیلئے کہا ہے۔بی جے پی کے اصل پروگرام کے تحت پارٹی کے قومی صدر امت شاہ بنگال کی یاترابہار ضلع سے سات دسمبر کو اس ریلی کا آغاز کرنے والے تھے۔اس کے بعد یہ رتھ یاترا نو دسمبر کو جنوبی 24 پرگنہ کے کاکدیپ اور 14 دسمبر کو بیربھوم میں تارپیٹھ مندر سے شروع ہونی تھی۔